وشن تی ےکن رما تک برا رٹ مت سک خلاف ورز یکر ے والا آخرت می مزا کا تی ہاش صووں می دم پیا کے مزا عقرب

یسید ھت عمام سکم تہ ہے۔ اود ا کا ارجا بک نے والا اس مزا کا سفن نیں ہوا جس سرزاس ان را کا اکا بکرنے والا ہوتا ہے الہمنہ ا سک یسل خلاف ورزئی اور نے چس یکرئے ولا قرا مکی سزا اشن ہو جاتاے۔

اٹل جاابیت' جن بہت کی بانذں می لگمرائی کا شکار ہو گے ان یس سے ایک علال وترامکا مع بھی تھا ینس میں وہ ال ط رع ای ےک علا لکوترام اورقرا مکحلا یکر بی اور ایس م لے میس مشرکین اور اگ کاب دولوں کا طرنگل یں تھا ہگ خی راہ کی گھرای دواچاوّں پتی۔ ایک اٹچاء وہ 22 4 ہنروتالی برمی ےکی رہیاثہت اور وو میتی ۹ کے نز دی ک نک مکوایت دیٹا روا( درس و جائز) تھااورشس نے ا ارزقی اورز نت کی ید ںکو ھا مکر دیا ر2 اورانض راہہیوں کے ند کپ پا ول دوونا ادورمام مل ول ہونا ھی با عح گنا تھا_

دوسرکی انتجاء پر فایل کا روک ہب تھا" بی نعل اباحی کا تہ بلن دکیا۔ انل مہپ یں ہرز جات ییہاںکتکدذعزات ونکرم تجھی ج سکوانممان فخط ا یں ماتاے۔

زمانہ جاہلیت میں عمریوں نے عحلت وحم تکا الیل خلط معیار قات مکررکھا تھا چنائچران کے مز یک شراب وی سودخواری' عرؤں ے پر سلوکی ول اولارگّی غلطا کاریا لکرنا پل جائزٹیں ۔انہوں نت اولا د شض لکنوشضابنانے کے لیے یھ ہیں اپن پا س ےکی ہیں نکووجہ جواز ہ کرٹ لکرتے تھے ضما: فقو ڈا ق کا انب ڑل یکی پیل لک باحث عار ہونا اور اچ ممبودوں کےنقرب کے لیے اول کو بجینٹ بڑھانا وغیمرد۔ جیب حالت 2 کہ ایک طرف نہوں نے انگ رگیشو ںکےن لک نایا ...و رکرن لکل چائ دکرلی و اور دوس ری طرف انہوں تن ےکیت لد چپاۓ گیصی بب کی عطالل چیزیں اپنے او بے ترامکر لی تھی اورطرق تا شا کہا علت ودقیمستتکواآہوں نے اڈ نوا یکی طرف موب پک کے دی حقیت دے ڈا تی لیکن اللہ تمالع نے ان کی ان افزاءپردازیو ںوکس پل قراردیا:

دالوا طور السَام وَحَرثحجر'لاَكَعمها من لَفَاة رَمِھم

انعام حزمت ہ مھا د انام لا یں لروت سو الہ عَليكَا ا فْنا2

بی

يد “سیجَزَيَهھم ہما 6لوا یفترن 6 (الانعام:٦/,۱۴۸)‏

رس 0كج-- ھچ ۔ بھھلل 5ات

موہ کھت ہیں ہہ چا اور ہیی نوم ہیں ا نکوصرف ددی لو کسکھا سا

ہس چنجیں پ مکھلانا چا ہیں اپنے زیم کے مطائٹ او نے چھ ا ای ہیں ج کی

ہیی (سواربی کے لیے ) ھا سرد کی یں اور نے چغہایں پوہ ال کا نام کنل

لی ءا پراقزامکرتے ہو ے۔ال نظ یب أئیل ال افتزاء داز یکا بدلردے تپ

اسلا مآ بیگرائی اورعلال وتراام کے معاطہ جس ہے بے راہ دوئی موجوڑی۔ اسلام نے ا کی اصلاح کی طرف ٹج کی اورپ ہلا قدرم مراٹھا یا قشع کے اصصول مقر سسے اوران کوجلٗے وٹرم ےکی اسماس بنایا۔ جس کے مہ یں اعتزال ولوازن پیرا ہوا اور عد کا 3 سعٍارقامم ہوا نیز ا سکی پدوات امت مسل گرا ودرا فکی راہ ایارک نے وا لے دانمیں اور انی گروہوں کے درمیان امت وسما (اعترال پرنقائم رے والی اصت ) قرار پا تے ال تھالی نے خی رامت کے قب سے نو ازا۔ (سور 2 ہل عمران:۷۰/۳) ٭ مم اضیاء الا ما ٹیں:

اسلام نے جو پہلا اصول مقر رکا دہ یہ ےکہ ال تھا کیا چپیداکردہ ام زی اصلا علال اود مہا ہیں مرام صرف دہ چس ینا یش نکی عرمت کے پارے میس ادرصریخ سہڑری وارد ہوٹی ے۔- پا اگ رج نی موجودتہ ہو: پل یف ہو پا عمت برصرح طور سے ول١‏ ات ول ہو تال اباحت برقرارر ےگا۔

علماے اسلام ا بات کے انل ہی ںکہ تام اشیاء اور بنشی چچززیں اصاا مباح اور جائ ہیں ا کا امتند لال تر نکی درع زی لآ بات سے ہے:

و الیِئ حَاق لک ا اض جَيگاپ> (الہقرہ:۲۹/۲)

”دی ہے جس نے تھادے کے نز یی نکیا سادکی چس پیداکردمیں۔'

سد لک من اوت 2َمَال لاق جَیکائنہ

(الجاثیة:٤٤/٣۱)‏ غ اس نے تتھارے لی ےآسافوں اور زم نکی سار جس اپنی طرف سے ریو

آصسلامملعلال و2ام 37 علال وترا مکی بچان

ط الع تروا اق انکر لک کا الکن ما و ژ٥‏ امَمَع یل

زِعَمَ ‏ ا رك بَا لت ”ہہ (لقمان:۴۱۰/٢٠)‏

اس تک کا ےن و ا یل

تمہارے سخ کی ہیں اورقم پہاپنی نا ہریی اور پان یلت ں کا اقا مکی ے؟“

الڈتھالی نے ان سب تو ںکوانمان کے لی ےل کہ کے اس بہ اسان نرمایا ے الپذا بیہکیلنکر باو رکیا جاسکتا ‏ کہ دہ انانمتوں بیں سے اکن کوجرا کھہ راک ان کے استفادہ سے ئل رد مر ےگا؟ امروائع یہ ماس نے لد ےد کوترا میا ہے اود دوگ یی اص یب پا ملح کی بنا یر جن سکا کہم بعد شی سک میں نے کو اسملا ٹیش ریعت میں تح رما تکا راہ ۷۔ بت مدود ہے۔ اس کے یکس علا لکا دائ ہخمایت دع ہے۔ بلی وجہ ‏ ےک سعرمت کے ہام بمشقل نسیس جو بھی ہوں اود صر بھی بہ کم ہیں۔ اور باقی قمام چزیں' ج نکی علت با حمت کے پارے می ںکوئی نس وارونئیں ہوئی ہے اصلا باج ہیں اوران کے

سلسلہ یش الڈتھا یی طرف کو یکرفت یں ہے۔ حدیث می ںآیا ہے:

(رمَا اَل الله فی کتابہ قَھُو خلال وَمَاحرم فَھُو حرام وما

دبموبھ۔ہ ےہ

سکت مہ و َابِلو من الله عَافية اك الله لم یكُنْ

نیقی شَيْقَا وق وَمَا کَانَ رَيَكَ نیا ٠)).‏ ”ال معالی نے اپٹ یکتاب مس ج٘ سکوعلا لتھبرایا ۓے دو علائی سے اور جم کو ترام برا جۓے دوترام ہے اورشئکن یں کے پارے می سکوت تر مایا ہے دہ ٭حاف ہیں ۔ مرا اڈ تھا یکی اس فاص یکوقو کرو کیوکہ اللہ سے ول یوک کا صدورفیس ہوتا۔ پگ رآپ لہ نے سور؟ رم کی آبیت حلادت فرمائی۔“ ”اللہ یھی کول سرز یں ہوتی۔““

سیدناسلمائن فاری ڈٹٹڑے ددایت ےک :

مستدرك حاکم (۲/٣۳۷)۔‏ مسند الہزار(۱۲۳۱۱۷)۔ النن الکبریٰ لاببھقی(١۱/٢٦)۔‏

زور رس0 اللہ عَن السَمَنْ الین ولقَاء گنا لَّ

الال ما انل الف کنا اہم وَالْحَرَامٌ مَاحَرْمَ الله فِیْ کتّابہ

وَمَ سَكتَ عَنهقهوممَاعََلَكم)) 9

رسول ایڈ شط ےکی یراو رگورشر کے بادرے میس پا چھا گیا ذ آپ خال

نے فرمایا: عللی وہ ہے جھے اللہ نے انی کتاب م علالکھہرای ے۔ اوترام

وہ ہے یے اس نے اپٹ تاب میں صرام تھب رایا ہے۔ رہیں دہ چس تن سے

لکوت اجتیارفرمایا وو مجاف ہیں _““

ال سے دانع ہوا ہب ےکہ نی انلم نے جن نیا تکا جواب دینا مناس بجی ں مھا پگ ایک ایا قاعدہ مان فا یا کرس سے علال وعرام یس پاسانی تیٹرکی چاکتقی ہے اس کے نظ ریب جان ینا کان ہےکہ ال تھی ن ےکن جیزد ںکوم ام برای ےج زی ان کے ماسواہیں ووآ پ تیا علال دطیب ترار پان یں یکریم خا نے فریا:

(رِنٌ الله مقرض فرالض فلا تُضَيعُوَْا وَحَدَحْدُوَدَا کل

تَعتدوْمَا وَحَوْمٌ اَشَیاء قَلا نوا وَسَكَتَ عَنْ اَيَاء رَحْنَة

بِکُم مِنْ عَيْرِیِسَیّان قَلاتْحَتْرْا عَنْهَا .))6

نے ری مک ایت ما رورس رونظ رر

یں لہذاان سے تھاوز نہکرد۔ جن چو لکو اس نے مرا مھ رایا ہے اا نکی بے

یئ شرکرو۔ اورجشن تچزوں کے بارے میس اس نے دا سکوت اختیارفر مایا

ہے و بی سکوت تمارے یه باعشہ امت ہے۔ لا ابی چچزوں کے بارے

یں بت میم ہڑوں

ترمذڈی' کتاب اللباس: باب ماجاء فی لیس الفراء' اح ٦‏ ۔ء اہن ماجہ' کتاب الاطعمة: باب اکل الجبن والسمن' ح ۷٦۳۳۔‏ حسنہ الالبانی ئی صحیح سنن الترمذی (٤٤٢٥)والحدیث‏ الساہق شاعدله۔

سنن الدارقطنی ٤(‏ ۱۸۳۔ی۱۸)۔ السنن الکبری للبیھقی (۱۰/ ۱۲۔ ۱۳)

رن 0ور ود یہاں ىہ داش حکرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ےک صا الایکل ہو نے کیا داشرہ اشیاء واعیا ن تک بی محرودنئیس ہے بلمہاس میس واقعات وف فا بھی شرائل ہیں جوعبادات کے یل نیس ہیں او رج نکواصطلاما حمادات دمعا لا تکہا جانا ہے۔ اللہ تھا یکا یر ارشاد: . - 8 (الانعام :۱۹۹/1( اس نے دہز یں تفحعیل سے بیا نکر دی ہیں جوتم رھ امم برای ہیں۔'" اشیاءاورافعال دوڈو ںکوش شال ہے۔ الہت عہادا کا مماملہاں ےملف ہے ان دی امو اعم جاناء وی کے ذری یکین اوران بی امور عق حدیٹ می ںیا ے: ((منْ أَحدّثٌ فی آمْرنًا مَالَیْس مِنْهُ فَهُوَرَد))٭ چخص ہہارے (دینی کے ) معالے مم ںکوگی خی بات ٹکانے جو اس سے مضوییں, وو تقایل رد تی ا سکی وہ یر ےگ دین دوپقوں اورطربیقوں پشقل ہے: یک کہ ال تھالی کے سوا کک عیادت نکی جائۓے- ×× اوردبصرے کالہ تھا کی عبادت ای طریقہ کیا جاۓ ہراس نے رر فرایا ہے۔ پر چٹ بھی انی جانب سے عیاوز تکانیاط بلک لے خواو کوٹ یش ہو وہ رای الات جے ے ردکیا جانا جا بیے۔ تقیققا عبادت کے طورطرٹیقے جھ تتقرب الیکا ذریعہ ہیں متفررک رن کاح شمارغ اورصرف شار عکوحاصل ے۔ الج عادات ومعالا ٹک گیٹ ٹا ے لف ہے ان طورط ریو ںکوشارن ے یں پل ہنوگیں نے 0 ہے ٘س کے مطائی کی ا وا بت ہیں۔ش ریبعت و ا ناج و یب اوران اعتول وواژن اک رنے کاکام انام دب رع ہے اون پاؤں (رسوم ورواع) می سکوئی خرالی اورضرر( فتصان )نیس تھاا نکوش اعت نے برقرار رکھا ہے۔ جن الاسلام این جیسیہ ول فرماتے ہیں : بخاری' کتاب الصلح: باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود“ ح۹۷٦۲‏ مسلم' کتاب الاقضیة باب: نقض الاحکام الباطلة' ح۱۸ ۱۷۔

چیک مم

ہے ےج وہمتہ_۔

ش بجعت کے اصو ل کیا گموئی اور آی کن میس طائرانہ مطالع ہکس نے سے بہقاعد ہکلی ا جھر کساٹ ےآتا ہےک۔ععبادالت جو نکواللہ تالٰی نے واججب پا ستح بکھ را ہے ا نکی برحیقیت شراجت ہی سے خابت ہوسگتی ہے۔ رہیں عادات تو دبپاکے معاملات یں لوگ رورم ان کے عادکی ہو تے میں اور وہ اص شنخ ہیں۔انل لیے جن چیزو ںکو الہ نے ممنوع قراردیا سے ان کے علاوہکسی اود چیزکوممنو نیش قراردیا چاسکن۔ اھر وٹچ یکا سعاطہ درتقیقت قانون ال سے تلق ہے۔ او رعباد تکا معامل گی سراس رای کےگکم پرموقوف ہلاس بات اعم ا لکی رف سےکییس ملا اس مامح ت اع م کے لگایا جاسکتا ہے ؟

ای لیے امام ا نٹ اود دنگرفٹھاۓ انل حدیت ہی اس بات کے مقائل می ں کہ عادات اصلا وی (جی ن کاظ ری کے ذریعہ ہی پوت ہے؟ ہیں۔ لب ذامض رو ددے سے الکریم نے مرو کیا ے۔ ورت ال تھا یکا قلعم پرصادثیآ. ۓگا:

بإ ام لهمْ موا شَرَعوالَهُه َال دزِنِِمَالَهْيَأَن پوالڈپ

)۲٦/٤٢٤ (الشوریٰ:‎

کیاان کے لی ایی ش میک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کے دوط یق

گے میں ج نکی الہ نے اجاز نیس دی ؟'“

اب عادات کا معاللہال لف ہے۔ دہ الا ماج ہیں اس لیے ا تی لکش الن چیزوں سے ردکنا چا چیے جک نکوالتعالی نے مر امھ رایا ہے۔ لصورت دنج رنڈ تھال یکا ہے

0921-.ج

ارشماد ہم برصاد لآ گا: کل اتد يہ ما الال لک تن ززت مار َن<دَمَاؤََك (یونس : )٢٦۹/۱۰‏ کہداتم نے بیھی سوچا اللہ نے ج رق تہارے لے نازل ف مایا ہے اس

لم عل رم 0کت 1 کے تار عدال می جیا نے

یش سے یکوقم نے ترام اور یکڑعلا یش ریا ؟'“

ایت بی ام اور می اصول ہے اور ایی اصول کے یی ل نظ ر: ۳ بھم ککتچے ہی سک جم ہے اجادہ دظیبر: عادات کےقیل سے ہیں جن کی طرف لوک روز مر کی زندکی یس ضرورت مند ہوتے میں ملا کھانا بنا اورلبامں۔ شریعت نے الن عادا تکوآ داب تہ سے سنوارا ے_ ارجع عاداٹ ٹیں خراپیشی ا نکوم ر۱ مب رایا۔ اور جوضردرت کےقیل سےعیں ا نکولاژم کر دیا۔ اىی طرح جھ حادات نا مناس بتھیں ا نکو ناپند ید وت برایا۔ اور شن پاتؤں ش مکی کا پپہلو نا اب تھا ا نکوس تب قراردیا۔

اس تقیقت کے یف لوک انی می کے مطاب لین دین اور اجرت پر معاملکرنے کے ےی ےآنزادہیں جب کم فک ش رلعت سےلی ٹچ کی ھومت طایت ند ہد جائے۔ ا لکی مثال خوردوفوش ہ ےک لوگ ح ریا تکالیا اکر تے ہد ے اپٹی مدشھی کے مطا کھاپی ھت ہیں ۔ مر چہ بس زس اباب اودفنض چیںکراہت کے درجہ می ہولی ہیں ین ج بتک شریجعت پاندئی عاحد تکرے وو اپنی ال اطلاثی (اباحت اصلیہکی) عالت پ باقی راقی ہیں۔''٭ اس اصو لکی تام حدیث سے ہول ہے جوستی نا جن مبد اللہ ڑا بیا نکر تے ہیں:

۳ھ /ت"ھ تم

الْثرَنُ. ))۵

”ہم عز لک یارتے تھے درتحائیہ فان نازل ہو رہ ہوت۔ اگ کو بات ایی

ہوٹی جم سک یما تحت کی تل کھتا۔“

ال سے مہ بات وا ہو جانی ےکر جس چز کے بارے بیں وقی نے سکوت اخقیا کیا ہے وہ 7 تعرام سے اور ق راس سے روا گیا ہے۔ الک تمام زس لوگیں ک لیے جائے یں جب ت کک عمانعت پر دلالل کر نے وا یکوئی تح ساس نہ آجائے۔ ال معالہ ش

( تالیف اہن تیمیە' ص۱۱۳۶۱۱۲۔ بخاری۔ کاب النکاح:باب العزل' ح۰۷٥۰۸۰۵٢٥'‏ مسلم کتاب النکاح: باب حکم العزل' ح: :1٤٤٤١‏ واللفظ ل۔

سعابہ پل ام ان کال نکی طامت ے۔ افش اس سے اسلام کے جتم پالخان اصول کن ہو جانا ےک عبادت وج مش روغ سے جے ال لکرمم نے مرو کیا سے اور عادات سےعتحل قکوئی چز ال تنالی کے تا مکرنے کے ای قاع میس ہوئی۔ کیل وتریم لی اعت ے٠‏ اعلام نے دوسر! اصول ہہ مقر کیاکی دہ اقت ار جوشیل وٹج رم کے اغتیا رات کا اضصل سرجنمہ ہے عو قکانیں بل صرف خالق کات ہے ۔کوکی انسان عا لم ہو یا دد ویش بادشاہ ہھ پاکھران ہس یکو ىہ انار حاص لنٹ ہ ےک وہ اللہ تھی کے بندوں کسی چ ورام کھہراۓ س ئ)" ےگا دہ عد سے تتھاو نکر نے اور ال تما ٰیٰ ے تثرھی حتوق میں زیادٹی کا مرتکب ہوا“ ا سکی اتا غعکرنا اور اگل سے اس سے اظمار رضا مندیکرنا رک کے مراف ے۔ ام لم زا شرَمۂالَهَم قس الین مَالم ادن پ الد (الشوریٰ (۲/٤‏ ”کان کے لیے ارییے شیک ہیں جنوں نے ان کے لیے دین کے دوط ری مقررکر لیے ہیں ج نکی اللہ نے اجاز ٹیس دگی؟“ یبور ونصساری ےتیل وفج ریم کے اخقنیارات اپنے احبار وخ ہپان (ملا ودرویٹش )کو دےر کے تھے جس بر قرآن نے انس رح حختکی رف مائی: "2ئ َحْبَرَهُم وَرَعَبَائهُم اَرہایا من مُوْن انُو وَالمَِ ابی مَزَیَم "وم أِرآا ‏ ليعَبُلا للا داب ا؟ لا اِله ا هُو-سُْحتَة کا 0 “)۲۶ انہوں نے الو کو کر اپے احباود رپا نکواپنارب بنالیا ہے اورپ بن میک بھی حااکہ ای ایک لہ کےسواس یکی عبا ےکرنے امیس دی گی ا" وه جس کےسواکوکی لک عبادتننیں۔ پک ہے دوا نکی ان مشرکانہ پاتژں ے۔'“ عحدیث مبارکہ یل ے:

((وَقَذْ جَاءَ عَدِیٌ بْنُ حَاتم إِلّی لی َ دن ج۔ کیل لاد ہا ج لی یش مرو ِ۰ :یا رم

ەووم" ہہ سے

و و وروش

2 0ھ" فَڈكِكَ گان عدی بن حاقم جنہوں نے اسلام سے چیہ انت قد لکر یش جب می کیم مان 11 خمدمت میں حاضر ہوہئۓے اور آپ نأ کو ےآمت خ٦لاوت‏ کرت ہوۓ سنا تو وت شکیا: اے اللہ کے رحول ما ! ان لوکوں نے اپچے احپار ور ہبا نکی حپادت نے نی لکی ۔آپ ما نے فر مایا کیو ںنیں؟ انہوں نے ان برعلا یکوترام اورترا مکوعطا لت رایا تھا اور ان لوگوں نے ا کی اتا گیاءاحبادر در ہیا نکی عباد تکا کی مطلب ہے“ دوصرکی رایت میس ےک می خا نے ا لآ تکیاخی کرتے ہد فیا ((آما نَم لم یگوتوا عبْدُوَنَهُم وَلْكِنهُمْ کَانُوْا انا َحَلَوَالهُمْ شَينَااِسَتَحَلوٰه وَإِكَاحَرَمُوا عَليْهمْ شَيْنَاحَرَمُوُ من ”یلوگ احباد در ہا نکی پیٹ ل فی کرت تے بکنہ ان کے علای بے ہویے کوعلال اوران کے ترام یے ہو ۓکوترا مکر لیت تھے“ تضاریٰی ان زم پاٹل می بت ےچ علنلانے آسان بر جاتے ہدۓ اپۓے شاگردو ںکو بے اقتیارتفوئیل فرمایا تھاکہ وو جس رح جاہیں لال وعا ھب رای چنا یلبش میں ے: نمس کم سے پچ کہناہوں :جھ اقم زان یہ با ند گے دہ آسمان پہ بند تگا اور چیم زین پرکھولو کے وو آسمان پک ےگا زم ۸۸) ابی طرح قرآن نکیل وم کے محاملہ میں مش کین کےط نی لکوکھی خلط قراردیا: ترمذی' کتاب تفسیر القرآن' باب و من سورة التوبةء ح٣۴۳۰۹۵۔‏

پل اريم انل الله لکر ون رق ان ا اما 2اک گل آرل آت لک ام لالہ تَفْترون ہپ (یونس )٦۹/۱۰:‏ کہواتم نے بیکھی سوچ اکہالڈ نے جو رذ قتمہارے لیے نازل فر مایا ہے اس شض ےن ےکم یکھڈ ےو جک

اجازت دای ام اللہ پاٹزا پرواز یکررے ہو“ ۶

زفرمیا: لا لَعولوَا ِا يف الَيےتُلم ایپ هْلاحلل و مل احرام فٹروا کل ا راکیب“ ات الین َفْکرون کل ا نکی بل بمْزعون ث پہ (النحل (٦٦٦/۱٦١٦‏

مہ جوتقہہادری زہائیں اللہ پر افزاء (جھوٹا اللزام گان کرتے ہو مجھو نے

ام لگایاکرکی ہی ںکہ بی علالل ہے اود ےترام تو ای جا ٹیس نکر جولوک ان

پرافزاءکرتے ہیں دہ ہرگ فلا طہ پانئیں گے“

ان رش نآیات اورو ان اعادبیٹ سے نہاۓ اسلام ن تیاور پر چان لیاکرعلت و حم ت کا انختیار اللہ وعدہ م یکو ہے اور دہ اپت ی تاب یا اپنے رسول مل کی زباٹی لوکو ںکو لال و2ام س ےآ گا ٥کرتا‏ سے او زغتہا کا ام ا ک‌ 0 0 ےک ووعللت وقمت کو با نکر یں ش ریت سازکی ا ن کا کامنئیں۔ بی ظقہاءء اہنچچاد وا رام کی عصلاحبت رک کے پاوچو دی دی سے امزازکھرے تھے اور پکام دوىرول کے رد رت مجے اس اند ینہ ےکی سے مرا مکو علال اور علا لکوترام نکر شیٹھیں امام شافقی بر نے ”کتاب الیگم“ صا یت

”نم نے بہت سے ال علم مشاح کو ویک دہ د ینان نی لکرتے اور

کسی جچنرکوعلال ما رام کین ےکی جا ےکناب اللرٹ جو یھ ہے اسے باانقیر

با نکرنے بر اکتقامکرتے ہیں۔“

ان ساب جومتازت گی میں کھت ہی ںکہ اس جات سے عدالمقدود پک تہارا

ےہ وہر

عالی الف کا ساجو جاے ہکا ہےکرالہ نے فلاں نز طا لک ہے پااے

پند کے لین قاست کے دن ال تھا ی قر مات گاکی ریش نے ا ںکوعلا لکیا

تا اور نہ بے پین اتی ای طرع تاد حال ا شش کا سا بھی شہ ہو جائے جھ

کجتا ےکسخلاں وت تھی نے مرا مکردی ےلین قیامت کے دن ال تھا

رما گا کیٹ تجھوٹا ہے مس نے شا ےترام کیا تھا اور تہ ال سے روکا تھا_

ایی سے جکوفہ کے متاز فتہاۓ جائنین میس سے ہیں معقول ےک

جب ان کے اصحاب ف کی دتے فے ”روہ ۓ یا اس می ںکوئی حر ہیں“

کے الفاظ اسنتحا کر تے کیون سی جزبرعات وم تکا عم لگانے ے زیادہ

رذ مہ دارانہ بات اورکیا ہق ے؟'“

سام این می لف سے“نقول ہےکیصاف سای ن مرا مکا لاق سی چزپےکرتے تھے ج سکی حرم تا لی طود مات ہولی۔ ای رع ام اھ ب نل فی ابی سوال کے جواب میں فرماتے: ”بیس اس روہ خیا لکرتانہوں یا ابچھا نج کھت یا ىہ پیند بد ہنی ہے ھی بات امام ما لک وللل امام الویفہ لف اور گرم امہ نل سےمعقول ہے۔ علا لکورام اورتا لال قرار دی" ٹرک ےٹیل سے سے٠‏

الام نے ان لوک خت بر تکی ہے یل گرم کے مقر یا گی بن جات

ہی نمائص طود سے ال نے علا لکوترا مکرنے والوں پر شد بوگرفت کیا ا کیوکہاس کے تہ میں انان لاو نگ اور شقت ٹن بتلا ہو چا ہے اور خرکارتحق (ظرد) پنراند معبیت کا رجقالن پیدا ہو جانا ۓے عالاکہ نی ظاٹ نے عق وتقدد کے رما نکوشخ سے دبایا درا مک رو برا خقیاکرنے والو ںکی مخت غرم تک ہے۔آپ ظفل نے فرمایا:

((ا لا مَلَكَ الْمَتولْعُوْنَ' الا مَلَكَ الَمتَطْعْوْنَ الا مَنَكَ

الْمتطُِوَْ۔))٭ 0 مسند احمد (٦١۳۸)۔‏ مسلم' کتاب العلم: باب هلك المتنطعون' ح * ۲٦٢۷‏ ابوداود کتاب السنة: باب فی لزوم السنة' ح۸٤1٦‏ ۔

تہج جج >2 وش رح ات

”او ہو چا !وین م پمق وتقرد پیراکرنے والے ہلاک ہو گے آنگاد ہو جا

وین م تع وقفدد پد اکر نے والے ہلاگ ہو گن آعگاو جو چا سک دن

می تق وتقدد پیر ار نے وانے ہلاگ ہوگئ۔'“ اور ارت یگری مل یرسیت ہے یا فرالی:

((يْمنْتُ بِالْحَیْفیة السْمْمَة ٥)).‏

بی ایند من کے سما تج کت ایا ہوں جوعی گی ہے او رف را غمکشھادہیھی ٌ

چنانجہ سی دین عقیرہ وتوحی رکے معاملہ بیس یف اور شرلیعت و اعمالی کے معاللہ 2 ساب وکف اور علا لیکوترا مکرنے جیے افعال ا لکی پل ضد ہیں ئن حدییث میں می اف فرماتے ہی ںک۔ ال ارک دتھالی ف رات ہے:

زی کٹ ای جا وَالَهھُم التُم الشيَاطِیْنْ فَاجْتَالْعهُم

ےڑا بی مَالَم اَل بہ سُلَطَاًا.)٥٥‏

یع ے نے بٹدو ںکو رین عثیف پہ پیا کیا ۓے لکن شیطائوں 2

بپکایا اوران پان چو ںکوترا مک دیا ج نکو جس نے عطا لکیا تھا اور یں

عم دیاکہ دہ میرے ساتھ ا نکوش ری ککھ رای سک ہج کی میں نےکوئی سند

نازل ہیں ی۔“

یں سے واتع ‏ ےک علا لیکوھ ۱ کر شرک کے یل سے ہے۔ ای ہے فرآن نے مشرکین عرب کے رگ بت پستی اورکحتقی اور چے پابیں گی اگزہ چو ںکو اپ اوپ7ام رین رف گی رکی۔ کڈ اح وصیلہ ادرھام ان ہی کے ما مگردہ چو پا تھے چنامیہ 7 ىہ ردایت من امھ کے حوالہ ےچ ارہ ے باشلاف القاظاء مسند احمد بن حنبل ٭ ۱ء رقم الحدیٹ: ۷١٢٦۔٦/٦٦۱ء‏ رقم الحدیث:٥۸۵٦۲ء‏ الادب المفرد للبخاریء رقم الحدیث: ۷ء المجعم الکبیر للطبرانیء ۲۱٦/۸‏ رقم: ۷۸۱۸ء سلسلة الاحادیث الصحیحة للالبانی؛ رقم الحدیث:۱۸۸ ۔ مسلم'کتاب الجنة: باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیااھل الجنة ح۲۸۱۰ .

2237777 یت ںاد جب ایٹنی با جج جم دے لیقی اور خری پچ رنرہوتا ھی مشرکین اس اش کےکیان کاٹ ڈا لے اوراس پرسوار یکر ےکویمنوع قراردر ےکر اسے اپنے معبودول کے لیے کیموڑ د پت مرا ںکوڈ کنا اوراس پہ بار جردار یکن سب مرام ہو جاتا ا کو پائی کےکماٹ یا تر اگاہ سے ہلااجھینئیس جاسکنا تھا ا کا نام انہوں نے کیرش یکا نکٹی ہوئی انی رکھ تھا ای رح سائہہ اس اپٹ یک وی تھے ج سکوکو یخس اپ سفر سے والیل آچانے یا ٹش سے شفایاب ہوجانے پراپت ممبددوں کے نام پرکچوڑ دتا۔ کلری اکر مادہ‌لتقی فو ا سکوابناطنی بت اور اگ رنرچنتی فو وہ ان کے ممبودو ںاج ہوتا او نر یادہ دونوں ؟لقی تق مرکو اپ ممجوروں کے لے ز کر ےکی ہیاۓے اے آزاد چھوڑ رپینے اور ال کا نام وصیلہ رکھتے۔ اسی طرح اس اون فکوٹس کے ےکا بچہ بار بردارکی کےمقابل ہو جاتا و اس بوڑ ھے اونٹف پرسوارکی اور ہار بردارئیعکویمنورح قرار دی اور اس کانام عام رسکی ۔ رآ نکرییم نے ا تھی موسر (نافرمالی او گنا کا کم قرار دیا اور ا اض مک یگھراہیوں یش اپ ےا با یتفلید کے ےلوٹ کوکش یس ھی فرمایا: ما جَهل الله ون بَحِلدو ول سايبَل لصاو ول حَار 'دَلِنَ لَزِنْنَ كَفْروَايَفْگروْن عَل الو الَكذب “و اَنْترَهُم لا يَعَقِلون تہ وَإِهَاقَیْلَ لَشْم الو ال مَا نز ادش و ای الرَسُوْلِ الا حَسوَاما وَجَ کا عَليِْ ابا تا او و کان ابا ؤهْم لا عون َیا لا يَفَکَلكَ ہپ (المائد::٥٥/‏ ۱۰۳۔-١٤١٠)‏ ”ال نے نکر مقر کیا ے ندسائ لہ صسیلہ اود نہ تی عام۔ کاخ اللہ رجوٹی شھت لگاتے ہیں۔ اوران میس سے اکر کل ہیں۔ جب آئیں شکوت دی جال ی ےک ہآ اس کی رف جوالل نے اتارک ہے اراس کے ریسو لکی طرف نذ کے ی کہ ہمارے لیے دو ریت ےکاٹی سے جس ٤‏ ےٰ اپ پاپ داد اکو(کُل کرت ہوتے) ایا ہے ۔کیا می اس صصورت مم بھی اپ باپ دادا گی تقلی دکریں " کے یمان کے باپ دادانہ یھ چا ے رے ہول اور پراہت پررے ہوں؟'“

تر اصل معل می ٹس ور 9 وت 001 ك۶"00 ٦‏ و سور؟ اعراف می اصل حرام چیزو کا ذک کرت وت فرمایا: یلم ن حم زین اڈوالیق اض وبا ہو الات مس الزأق'> (الاعراف :۷/ ۳۲) کہ اکس نے ھراممکھبرایا ہے الڈ ہی اس زین تکو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیداکی ہے اوررز قکی جاگیزہ چو ںکو؟'“

عیر سیر می

ظفل اِنَا حَرم رَِ القواحش ما ظھر مِٹھا :ما بطن والاثر والبق ص4 وپسو روھویوےہ اے۔

پقنر الع د ان تشوِلوابِاذْومَالم ينَزْلِيمِمَاظتاو ان تَقووَاكَل الو مال

َعلموْنَ 6 کہ (الاعراف ۳۳/۷)

ہوا میرے رب نے تو جن چیزو ںکومرا تھبرایا ہے دہ مہ ہیں بے حیائی کے

کا خواہ کے ہوں با تی گناہ نان زیادثی اود یکہالڈکاک یکوش ری کب راو

جن سک سند اللہ ن ےنیس ناز لکی۔ نز کہ ال نکی طرف مقسو بک کےکوئی

ای با تککہو٘ سکیل یں

کیل وت رم مکی 7 ) جے جھااس با تگا دمل ےکقرآ نکی نظریں بر متلہفروعات وجز نیا تکا نیل بل اصول وکا تکاے_

ینریش پجھسلمان ال تھے بن کے اندرشمرت پیندگی اورطیبات (پاجزہ چڑوں ) کو اپناٹٹس پرتا مکرنے کا زہقان چیدا ہوگیا تھا۔ اس موتع پہ اللہ تعالی نے حم کیات نا زل ف اکر ا نکوحدوۂ الہ اورص ا عم یرام رہ ےکی ہدایت فرماگی:

یھ ان امکو ال عزمذا ات مآ اَحَلَ الله لیر لَمْتَدُو“ ِقَ

الله لا یت الْمعَي٥كت ٥‏ د طُوا ما رر گکی الہ حَللا با“ واتَقوااله

0 (المائد::٥٥/‏ ۸۷۔۸۸)

اےایمان دالو!جھہاجزہ چس اللہ نے تمہارے لیے علا لکی ہیں ا نکوقرام

نک را اور حد سے تاوز شکرو_ لان چاٹو! ال عد سے ناو زکھر نے والو ںکو

پین نکی کرت۔ جوعلال وطیب رزق الڈ نے ت مکو کٹا ہے ا ےکھا اور اس الڈ

د حہے رہہ

سے ڈرتے رہوئٹس پغم ایمان لاۓ ہو“ ام میں بااعت مقرت ہیں:

ال تما ی اممانوں کا القی ہے اوران پراس کے بے شر امانات ہیں انس لیے می ای گی ےکم دو یس چک چاے انان کے لی علال اود مض کو جا ہے مامت ہرائے۔ اس پ اعترائ شکرنے با ا ںکی نافر ما رن کا سوال پیداب نیش جوتا۔ ىا ںکی رادیی کا تن اود ا لک بندگی کا صر نقاضا ہے۔ ی اود جات ہ ےک ال قعالیٰ ے تام وعلالء معقول وجود یک بنا برای ہے اورانسا ن انیقی مفاداسی سے وابست ہے۔ اللہ نے عاگزہ چیزوں ج یکوعلال قراردیا ادا پاک چیڑوں ہج یکومر امت رایا ے۔

ہت یہودییں پر ال تماٹی نے لت اکھی زی ںبھی حرا مک د یتھیں ہے فیصلہ ا نکی مش یکی دجہ سے مزا کے طورپ تھا لیکن جب الذہ تھالی نے اپ خر می ظلافڈہ کو دای دین کے سماتحرمبجوٹ خر مایا تق أ کی رحمت اس جا کی تنقاصی ہوک ی کہ اس بد چ کو ہکاکر دی جائے۔گمناہوں کےکغادہ کے لے بھی اسلام نے طبا تکومرا نی ںکیا غاد کی اداگی کی دوسری میں تی نکررییں۔ چناغہہخالص گنا ہو ںکواس رح صا فکرکی ہے جس طرع پائی گند یکو ّ8 ای طرع شیکیاں برائیو ںکو دورکرکی ہیں اورصدت گناہو ںکو اس رح بھا تا سے

حطر پائی تن ککو بھاجا ے۔ علادہ ازیی مصائب وآلام ‏ گناہ اس طرح جٹرنے سگتے ہیں جس طرح موم خزاں میں پنے حر ہیں۔

سی لیے اسلا مکی بی تقیقت متروف ہوک کہ اس نے بین جو ںکوقرام مب رایا سے دہ انسامیت کے بے ہرطرحع سے خرالی ومعخر تکا باعھث ہیں۔

چنا مہ جھ یز مان مر تکی(فنتصا نکی باعث) تی ا لکورا کر دیا اود جو چچڑ زلیس منفع تکیٹھی ا سمکوعلا لکر دیا۔ ای ط رح جن سکیمعخرت, منفعت سے ز باد شی اس ورام اوج سکی منفعت زیاد شی ا سکوعلائل قرار دیا۔ ال لکی صراحت قرآن نے شراب

0 ےنت وت

اور جوۓ ک7 وں ی کی ہے: .ت8

”و وم سے شراب اور جوۓ کے تلق پو نے ہیں کہو! ان دونوں چزوں میں

ڑا گناہ ہے اور لوکیں کے لیے پچھ فائند ےکی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے

فا کے سے بپڑ کر“

الیک مسلمان کے لیج برض رود نی ںکہ دہ ان خشاشوں اورمعقرقاں ڑکے اسباب و دواگی ) لوچان نے ہج نکی وجہ سے اسلام ن ےکی چ ز۷ دا مکگریا تے _ ہو سلت نے دوسروں کے متظا لہ بیس ا سکیا ع مم ہواور پت بھ یکن ےکا کی ما کرد خیاخت لی اہر نہ ہوگی بداو ری دوسرے ز مان میس لاہ رہوجائے۔ مو کا کا من بھییش ہک داطاعت ہے۔

زی لور یکی مال مجن ۔ اللہ نے ان لک گوشت تر ا کیا لین اس وت ا سکی علت (وج جلدت) مسلمانو ںک یھ می کیاکی سواۓ اس کےکہ بیکش جاور ہے لشیکن زماندگی ترتی نے یہ انکشا فکیالکہ اس میس مپنک جرانھم او رکیٹڑے موتے ہیں۔ اکر ہے اکشاف ذدبھی ہوا ہوتا' با ال بارے می ںآنتندہ ‏ ید انکشافات ہو چائیںء جرصورت ایک مصلمان اپنے انل عقیدہپہقائم در ےگا کرو رکاگویشتفمرام ہے۔ دوسرکی ال می خا کی انس حدیث سے دا ما ہے :

(اتْٹرا المَلَاعِنَ الَل٦تَ:البَرَازَ‏ فِیٴ المَوَارِد وَفَارِعَةً الطَریْ

وَالئَلٌ.))

نین پانوں سے بوجو موجب لعنت ہیں :پان پ ےکی جگبوں مملء وسط با

یں اورسای دارلہ ٹل پاخادگرنا۔“

0 ابوداود' کتاب الطھارۃء باب المواضع التی ٹھن عن البول فیھا' ح٦۲‏ ابن ماجہ' کتاب

الطھارۃ: باب الٹھی عن الخلاء علی قارعة الطریق' ح۳۲۸ ولہ شامد غیر مسلم فی کتاب الطھارة: باب الٹھی عن التخلی فی الطرق والظلال'ح ۲٦۹‏ بلفظ اتقوا اللعانین ۔

نگ 2یئ٥--‏ - چس وت اس عدبی ٹ کا مطل بث وان أوٹی بش صرف انس حدم ک مھا گیا کہ ىہ نکی بات ہیں ینف لسلیم اور شنگی کے خلاف ہیں لیک نکی کش فات کے بعد نہیں معلوم ہواکہ بی زی عامحت کے تعفر ہیں کوک ان سے خط ا حم کے متحدی امرائ یت ہیں۔ یں طر مع مکی ریچ ہنی بی گی اور انکشافا ت کا دائرہ تنا دی ہوگا اسلا مک دہ مکی ں بھی وائع ہوتی لی جائی کی جواس کے علال وعرام جس نہ پھر ےتش ری نظقام یس پپشیدہ ہیں او ری کی یس ہو کی ہچ بی شرجت اس صست کی طرف سے ہے جھ نیم دکعم ہونے کے ساتحداپے بندوں پرمب ریا نلیا ہے: الله یش المقید من المصیج“ و لو ما اللہ لا عکم“ ا الله عَريْز لیم (الیٹرہ: )۲۲٢/٢‏ ”ال پگاڑ چیداکرنے والےلویی جاتتا ہے اور بھلا یکرنے وا ن ےکوی اکر اذہ تا تموسشنقت میں ڈال دیتا۔ یقن الل الا ب بھی ہے او رحکست وال انی“ عالی' تام سے بے میازکرد یا ے: اسلا مکمال درج ہکی تو بیوں کا دین سے اود اس نے لوکویں کے لیے بی آساتیاں اک دی ہیں۔ اس نے ج٘س چچزکو ہم پرقراممھہراا ےا کاتم اہر ضرورعطا ءکیا ے- ایام ال نس سے لوگو کی ضرو ری بھی پودی ہوں اود وہ تراام سے بے خیا گی ہو یں ۔علامہان یم ڈلشۂ نے اس پہ بی ععدہ رفی ڈالی ہے ودفرماتے میں : ى‌ اسلام نے پانسوں (قسمت کے تیرجول سے فال اورشکون بد لیے جھے ) کے راید تحت معلو مرن ےےگوترا مایا اوراس کے بدل کےطود بر دہاۓ اصارہ عطافرمائی- چا مو وکترا مکی تر اس کے عو نع ہش تار تکو جائ دکیا۔ چا جو کوقراممکر دیا اوراا يکی جا اس ما کا کھانا چائ کر دبا جوکھوڑے اونف اورتروں کے متقابلوں کے ذر یہ حاصل ہو جو ما ے شرع مغفیدخیال سیے گے ہیں۔ چ 2 مدوںل رتا مکیا لیکن انل کے عو اون کان اور رولی کے ا وا واشام کےل از نت سے لواڑا۔

0 آ 2 ٰ۱ ا زنا اوراواط تکوترام رای اورا نکی ججاۓ سنت مکا ںعکوعلا لکھہرایا۔ رت خقیا تکوترا مکیا لان اس کےٹم البدل کے طور پر لیذ مشردبات عطا کے" جوڑوح اور بن دوفوں کے لیے مفیر ہیں کھان ےکی چزدں مس جہاں نا پاک چچیزد ںکوھا قراردیادہاں چاگجزہ چچڑو ںکوعلال قراردیا۔ اگ ہم اسلام کے بجملہ اکا مان کر میں تق یر تیقت پر طرب ریشن ہوگ یک ال تعالی نے اپنے بندوں پر گر ایک جاب ےکی بیدا کی ہے ( گی پی اکر بھی حکرت سے خائ نیس ) ت دوسری جانب سے وسع ت کا درواز وگھ یکول دیا ہے کیوکلہ ال تعالیٰ اپ بندرو ںکومشقت اورک می ہل اکرنا نیس چا ہت بکہ ان کے لآ ساٹ پیداکرنا اور ا نک تیر ہدابیت اوررممعت سے نو ان اتا ہے لیم اک فرمایا: یی الله لین لکر وَيَمَديلم سان الَِيَْ مِن قبیکر یٹوب کر“ الله علیہ حَليه الہ بویٹ آن وب عَليکی“ وَيريد رت َهْْنَ الكَهيِتِ ان کا مَيلَّ علیہ ريد الله ان يُكَفْفَ عَنکر* وَخُِقلِنَْانْمَْیْاہ پ (النساء:٤/ )۲۸٢۲٢‏ ”الد جامتا ےک تم پھ اپ اعقام ا نے دے او رش ہیں ان لوگیں کت طریقو ںکی ہدایت ین جوم سے پیل ہوگنذرے ہیں اور اپتی رجمت کے ساتد تمہاری طرف متوج ہداود ایڈیم ونیم ہے۔ الڈ ہن تم پر رجمت کے ساتھد تق کرنا اتا ہے لن جو لوک خواہشا تکا پر وٹ کررہے ہیں دہ چاے ہی کت راہ رات ھن فکر ڈورنل جال" الخ یہ سے !وھ ہکا رن چاہتا ‏ ےکیوکلہ انسان رود پیاکیاگیا ے۔'' تے طرامکاباعفث بن دوگ ترام ہے : اسلا مکا اصول ہہ ہےکہ ہھ بت زقرامکاباعت بن دوچھی خرام ہے۔ اس ط رح اسلام نے تام کے ڈراگ کا بھی سد با بکیا ہے۔ مال کےطود پچ اسلام نے ز کورا مکیا ق2 ای

نس علمم 0 تر دی ا عدال در کی جیا ۴“ کے متقرمات وترکا تک وٹ مرا مکر دیا ضا جبرح جاہلیز گزاہ آمیزخلو' ے جا اختلاط بر ہنہ تماد عریاں لٹ راو رش گانے وغیرہ۔ ای ہنا یرفتہاء الام نے بہقاعد ہم ردکیا سے ک یڑ جھ بے زقرا مک باعف بن ودج کی تام سے

بی قاعدہ اسلاام کے اس اصول کے عین مطاقی و سے جو رامک رکب ہوا ہے بلکمہ ان گنا ۳ھ “0 ہیں جا کام می کی 7 حقیت سے معاون ر ہے ہیں خواہتعاو نکی نویت مادی ری جو پا لٹ یرک ری )س۶ام کے معاعلہ میں مس فیدر دہ تاو نکر تے رس ہیں ای قد را نکا گناہ یش حصہ ہے۔ چنانچہ بی لاہ نے تصرف شراب پینے دانے پراحنت فرمائی سے بکمہ چوڑنے والے ُٹھاکمر لے جانے والےاورشٹس کے لیے اُٹھاکر نے جائی جائے ان سب پٹ ا سک قرس تکھا جانے وا لے پپکھیلحنت ف کی ے-9

بی رع مو دکھانے وا کھطا نے وا لئے ا کی وستتاویز اکھت وانے اورگواو نے والےۓ, سب برلعنتت فرر کی ہے۔ ٭ اہداج چ زترام می محاون تک باعث بن و وی حرام ہے اور جس حرام میں محاون کر ےگاد گناہ یش ش کیک ہوگا۔ حم کے لیے ضےے اخ کر نا تھی رام سے :

اسلام نے چہال ان نظاہری وسائ لکوحرا مکی جن مات کا باعث ہو دہاں ال نے ن خقی راع اور شیفائیعلو کو تما قرر دیاجن کے لی بہدوترا مکدعلا یا اکا ہے۔

یبودیوں نے ال کی ما مکردہ چو ںکوعا لکبرنے کے لے جوحیلہ بازیا ںاھی ا نکی اسلام نے بت نذس تکی۔ می طافظہ نے ف مایا

((لا تَرتَُْوْا مَا ارکب اليَهَوْهُ وَنَسْتَسِلُوا مَحَارِمَ الله بَاَذنی 0 ابوداود' کتاب الاشربة؛باب العصیر للخمر' ح٤ ۲٦۷‏ ابن ماجہ' کتاب الاشربة: باب لعنة الخمرعلی عشرٴح ۳۳۸۱۰۳۳۸۰۔ اھ مسلمٴ کتاب المساقاۃ: باب لعن کل الرباء ومؤکلە'ح ۹۸٥۱۔‏

٠))٥لّیحَلا‎

نیبددیوں نے جس کاا کا بکیا تم انس کا کاب ش کر کہ الڈ کی تا مکردہ

یزرو ںکوادنی جلوں کے ذر ی ہعا لکر لو“

کودلول پٍ اللہ نے ہی تج ہفع) کے دن شیک رکرنا عرا مک دیا تھا جن انہوں نے حیا رک کےمقرا مکوعلا لک لیا۔ چنا دہ مہ کے دع مژرر کےکنارے شنرقی ںکھورتے“ تاکسبت ترفن ) کے ون چایاں اس می سک رمع ہولی رہیں اورائذ ار کے دن وہ ا نکو کھڑھیں۔ ان حیلہسمازوں کے ن: دک ایا کرنا چائز ھا لین فتہا ۓے الام کے نزدیک تام کے کیوکمہ یہ بات اللہ ک عم کے خلاف ہے جن کا فشاء تی تھا کہ دہ شکار سے رک جانیں۔خواہ شکار براہ راست جو پا پالوالطہ-

تی احمام چک نام با ا کی صورت بدل دنا ہا کی ال حقیقت اتی کہ برقرار بے ناجائ زع مکا حیلہ ہی ہے یجس نام یا صور تکی تید کا اتپ نمی کیا جاسکتا۔ گر لگ رات کے لے صوتی ایارک ےی یا سودگری فا اک چو کے لیے حیلہ باذک ہ ا سی یا شراب کاکوئی خوبصورت نام رک ےکر پا پائ کر یں فذ ای صورت مہ ان کا حرمت او رگناہ می لکوئی ذرق وا نہ ہوگا۔ حدریت ٹ یں یہ جیٹگی او موجود ہے فرمایا:

(للَ>سْتَحلَنْ طَاوقة ون أمَتیٰ الکُمر يسُمُوْنھا بعر اسْمهَا.)) ٥‏

رک امت کا ای کگردو شراب کا نام بد لکرا ںکوعا لک نےگ۔''

((يأيِیْ عَلَی الا ران يسَتَجْلون الیبَا ہاسُم البیع ۲۰

”یک زا نآ ےگ جب لوگ مو دوگ کے نام سے علا لکریش گے

اود بھی ف زمانہکی نی رگگیاں ہی ںکہلوگوں نے اخلاق سوز رٹ س کا نام ”فی رکھ دیا أبن بعلة فی ابطال الحیل (ص۔٣٤۳)‏ کما فی غایة المرام و ضعفه الالبانی' ولکن اوردہ فی آداب الزقاف (ص۔۱۹۲) و بعد تبین لە انه ضعیف افطر تراجع والعلامة اللالبانی ۔ مسند احمد ')۳۱۸/٥(‏ نسائی' کتاب الاشربة : باب منزلة الخمر' ح٥٥٥١‏ ' ابن ماجہ' کتاب

الاشربة: باب الخمر یسمونھا بغیر اسمھا'ح٥۳۳۸.‏ ۵ إغاثة اللھفان لا بن القیمء ۱۹/۱٦ء‏ غریب الحدیث لتحطابیء ۶ی ١٥/)۔‏

ہے اورشرا بکو ‏ مشروبات روج“ اورسودگو' پرافٹ 10111 (ع) سے ہام سے سو مر پیش ہیں۔ نیک نیقی مرا ممکوعلا لنمی ںکرکی:

بہ بات تن ےک اسلام نے شی معاملات ٹس تیک ارادہ اور تیگ بی کااعتیا ہے لی اک ہبی طف کا ارشاد ے :

( اما الم ۔ ل بِالییّاتِ وَنَمَا گل امْرِي مَاتویٰ٠)) ٠‏

انال می اتیاری تک اود ہش کے نے یھ ےج کس رنے

۹

میں ۔

کیک نت کی بنا بر مہا اود عادات کےتیل کےکاممء اطاعت وتقرب کےکام بن

جاتے ہیں۔ ضا جونس اس میت س ےکھاناکتھاتا ےک بقائۓ جات اورتوبیت بدا کے اس ذدلییہ سے دہ اپنے رب کے عائ کر دوف را اود اپئی می ذمہدارلی ںکواد اکر نے کے مال ہہو جا ۓگ فو ا ںکاکھانا اور بیاء سب عبادت ونقرب ہے ای طرح جوننس ابی وی سے اولاد کے لج با پاکدائ یک ماطرمپانشر تکرتا ہے نو ا کا پٹ ل کی عبادت ی ہے یخس پردہ اکا تی ہے۔ چنا شی نے فرای:

((وفی ح اَحَدِکُمْ صَدَقَة قَالُوٰا ایی أَحَدِنًا شْهَوَتَه بارسُوْل

الله وَیكُوْنَ لَ فیا اج فَالَ اَلَیْس موی را کان

عَليهِ وِزْر٢‏ فَكُذلِكَ اِذًا وَضَعَھا فی حَلالِ کَانَ هار ))ہ

یں ایی کر کی ہے اض صحھا۔ہ پان نے

عون کیا: اے الہ کے رسول مال کوک یٹس ابی شبوت پور یکر ےکی ا سے

اج بھی لگا ؟ فرمیا: ”اکر وو رام مار تکامرکب ہونا نے کیا گار نہ

0 بخاری کتاب بدء الوحی: باب کیف کان بدء الوحی الی رسول الله ہ' ح١۔‏ مسلم' کتاب الامارة: باب قولہ ق ”انما الاعما ل بالنیة“ح' ۱۹۰۷ ۔ مسلمٴکتاب الزکوٰۃ: باب بیان ان اسم الصدقة یقع علی کل نوع من المعروف' ح١۱۰۰‏

ہوتا؟ اسی رح دہ جازم پاش تمرنے پر اچ کا سض سے نز عد یت من لآیڑے:

((وَمَنْ طَلَب الڈُّنيا الا تعَفْفَا عَ الْمَسْالٍَ وَسَعیا عَلٰی عَیَالہ

وَتعطُفَا عَلی جارم لی الله وَوَجْههكَلْكَمٍليَةَالیر ٠)).‏

فص دنا کی جائز چیزوں کا طل ب گار ہوا اپنی خوددار یکو اتی رکنے اپے

اٹل وعیا لکا نفقہ اداکمرنۓ اور اس پڑگا ب ان 77 ےووہ

اللہ سے اس عالل میس طاقا تکر ےگا کہ ال کا چرہ چوددھ یں رات کے چاند

گیا رر جک رہاہوگا۔“

ال طرع ہر جات زکام جوم کن انام دیتا ہے ہتکن فی تک بنا رعیادت من چاتا ے۔ اس کے بن س مر امام حرام هی رہتا ہے خواہ ال لک ایا بکقی بی نیک بھی کے ساتھکیوں ٠‏ نرکیا جا اود( یم خود)کتنا بی ای مقصد شے یکیوں نہ ہو۔ اسلا مکو ىہ بات ہرگز بین نہیں کہ ایک اعلی مقر کے تو ل کا ذ بی رترا مکو نایا جات . اسلام یس متققدکا اک ہنا اورال کےتصمول کے راع کا پاکیزہ ہوناء دوٹوں بی مطلوب ہیں ۔ اسلائی ش ربعت اس تقاعد ءکو ہگ تی مکرنے کے لیے جیارنییس ےکی مقصد ہکم کے ذردیہکو چائ کرد یا ہے اور ناس کے نزدیک ہہ اصول ہی تقائل قبول ےہ جع متصر کے حول کے لیے ہ ہکشزت غلط طر نے اخیا رن پڈتے ہیں بر خلاف یں کے اسلام بضرورگی قرار دیتا ےکر جج متمد کے ےکچ طریقے ریت کے مطا بن بجی اختیار سے میں _'

بن اگرکرنض اس خیش سے مو رشوت' ترا ربیل جوا اور دی رمنظورات کے ذرلیہ روپ یگاتا ےکہ دہ مسچ جقی کر گا یا رفا ہی ندمت انجام دےگا و متصری 7 27 حم کور (ش) نی ںکرئی ۔کیو ںک اسلام یش متاصد اورظٹیں حرام پر اٹ اندازنیں ہوٹں۔ یف نے ہیں اہ کیم دکی ہے ۔آپ مافڈہ نے فرمایا ے:

0 ابو نعیم فی ”الحلیة“ (۹/۳١۱۔۰١۱)‏ من طریق الطبرانی (۸/ ۵٥‏ وغیرہ والبیھقی فی الشعب۔(۷/ ۲۹۸ ح٣ )۱۰۳۷٣'۱۰۳۷‏ اسنادہ ضعیف لانقطاعہ ۔

سی ہ- سس وت

کے امرس وہ موس ھ

((إِك الله طَيْبٌ لأَیَقيل الا یب وَانَ الله آمرالمومِئین ہما آمر لسن کقال بل یلیل اون لت دَاعماوصَ اتا ای بِما تعملون عَلمْم پہ(المؤمئرن:1 )٥‏ وَقَال: 00ھ گوان طبتما رزَفنلم زالبغرۃ ۷۰م فَكرَالرَجْلَ بطيلْ وشن عَرام َتشْي عَرَام وه عَْرَامٌ موی ارام قَانْٰ بُْقَجَابُ ِذَلِكَ!))٭

”اللہ جاک ہے اور باک چز: یں ج یکوقبول فرماتا ہے۔ ائل ایماان وائسں نے ای بات کافکم دہا ےج سکیا ع مکہاس نے اپ رسولو ںکددیا۔ چنا نچ ق رآلن ٹل فرایا :لے رسولد!پاگیزہ زی ںکھاؤ او می کم لکرو تم چو پچ ےکرتے جوا سکیا جج بی طرعملم ہے۔'خزف ایا : اےایمان والدا جھپاک یی ہم یں عطا کی ہیں ای سکھا و“ پل رآپ می نے فرمایا: ای ک خیش طول سف متا ہے ال کاعال 2 نے پال پان ور پانؤں غپارآلور یں اور اہی ات ھآما نکی رف اٹھاک دو اکرتا ہے اے رب اے رب لجان ا کا کھانا مراحم یا مرا لاس ترام اورترا مھا اکری دہ پلا نو اینش گل زا یظرقول ہم ل۷“

اورفر مایا:

ر2 لا کا نو ار کر کا وَكَاكَ اص٣‏ عَليه))9

ٹس نے ہرام مالین کیا ادد برا سے صد قکیانہ اس کے لی ےکوئی اجمنھیں

٭ مسلمٴ کتاب الزکوٰۃ: ہاب قبول الصدقة من الکسب الطیب'ح ۱۰۱١‏ 'ترمذی کتاب تفسیر القرآن:باب ومن سورۃ البقرة:ح ۲۹۸۹۔ مستدرك حاکم (/ ۰) صحیح ابن حبان(الاحسان۔ ٣۳۲۰)۔‏ (موارد۔ ۹۷ ۷ٴ٦۸۳)۔‏

شرح السنة (۹۱٥۱)۔‏ واسنادہ ضعیف۔

7اصا مس علطم لیر جے گنس بے( مرا مکمئی کے گنا وکا پارے۔““

ءم نت

نجزفرمایا: ((لا کیب عَّد مَالاً حراما فیتصدق بع فیقبل مل ولا یفن

ہوہے ٹر و نت

ِنه فَاَك له فَه' اترك عَلفَ ظھُرم الا كَانَ رَادهِلیٗ النَّار الله قعالیٰ خر السبقی بالشیی' ون بَنخُواّي بِالْحَسَن'ن الْكَبیْتَ لأَیمحُو الْحِیكَ)) ١ ٥‏ نفد ومرام ما لک اکر جوصدقہکرتا ہے وہ تو لنجیل ہوتا۔ اس میں سے ج بج دہ خر خکرتا ہے ال میں مرکم تگھ نیس ہوفی اور جھ اپنے کچ کچوڑ چا ا سے ووشنحم کے لیے زاوراہ ین ہاج ہے۔ یقت بی ےک الہ تھا لی بد یکو بدی سے ٹنیس مات بلک بد کوجکی سے مٹانا ہے ۔کندکی گنر یکویں مثاتی_““ ۱ع میں بتلا ہو جانے کے ان میقہ سے مشتببات سے بچنا: اأقا یی ی ا٦ت‏ بس ےک اس ے علال وا کا معابل لوگوں پنسہ یں رکھا۔ بل علا لکووا نکر دیااورقرا مک پیل بیا نکر دی: ط(ءَقَذكَصَل کر محلم عَليلور نہ (الانعام:٦/۱۹۹)‏ ”نے دہ زی ںیل سے بیا نکردی ہیں جوم پرھرا مکردی یں_'“ اپناع چز اخ لود پر علاللی ہے ا لکو ایا رکرنے می لکوئی مر ع نییش ہے۔ اور چھ نز وانم ود پرترام ہے ان ںکواشعراری حاات کے سوا( ج سکی صراحت خودق رآ نکریم جس ہے) اخقیارک رن ےکی رخص تنیں ہے۔علادہ از یی ایگ دائہ ون مم کے دریان میا تک ای ہے۔ ایی أمور بی لوگ التب مو ںکرنے کت ہیں۔ ا سکی دج ول ےکی ندال بی خی رواشح ہوے ہیں اورھی نٹ کو پل آیرہ واقہے مت رع نے صن کا باعث من جانا ہے۔ ام کے مشتبہ مور سے بے کا نام الام می فوع (تقکی) ے۔ یڈ سد ذد ہکا کام دیتا ہے اود انا نکی ڈھنگ پر قبی تکتا ے

مسند احمد (۱/ ۳۸۷) واسنادہ ضعیف.

۰+ - ۔ ھک وت ورشہال با تکا ان بیشہ ہوتا ہ ےک ہآ وی مشخیہات ٹیل پک مرا کا رہاب شک ٹین بے اصولل ضی خر کے اس ارشاد پٹئی ہے:

سے سفن کان

كَقْيْر مِنَ الا أمِنَ الال می آم الحرام' من ترکھا اِسَتَبْرَاءً

لوب وَعِرٰضع تَقَد سَلمٔ وَمَنْ واقع شَیْنَا مِنھُا يُوْقَكثُ ان ُواقع

و ف اق سی مرو الس ارقٹ ا ئک اترڈ

گل مَلِكٍ حبٔی اَل٦َوَانَ‏ جِمّی الله مُحَارِمّه.)) ٥‏

علال وا 2 ہے اور ۱7ا چھی و ج0 ے اوران دبتولں کے دزمان یھ زس شب

ہیں ۔ جن کے بارے میں بہت سے لوگو ںکویس معلوعم ہآ با عطال میں یا ۶م

ق وس نے دین اوداٹی آبر وکا بانے کے لیے ان سے اتتزا زکر ےگا دوس اتی

یش ر ےگا ۔لین جیٹس ان میس ےکی زی ملا ہوگا تق ا سککاجرام یں بتلا

ہون یج نہیں جس طر نکوگ یٹس اپنے جانورمنوع را گا؛ کے اردگرد راتا سے

قزانع کے اندددائ ہہون ےکا امکان ہوتا ے۔ سو ! ہر پادشا ہکی ایک ممنوع پچ راگاہ

ہوٹی جۓےاورنو! کی منوعہ جےاگا وا کی تا مکردہ زی ہیں“ ”لے اع سب کے یرام سے:

اسلائی شرییعت مہ عرام کم عام ہے۔ ابیانییس ہےکوئی تھی کے لیے حرام ہو اورعرپی کے یی علال با کالے کے لے موم ہواو رگورے کے لیے میاح۔ ادد تہ ت یی چیک جھازیا زخص تم یو حبقہ باگرد ہ کے لیے ہے کھکائکن اضازبادشاہ یا شرفاء ہے مقام اود نا مکا فائحدہ اٹ کر انس تق کا ساما نکر تے رہیں۔خ یمک ملا نک یب یکوئی خصوص یں ےک ایک چچزمللان کے لی علال ہواو دوسروں کے لیے حرام۔ 1 ٭ بخاری' کتاب الایمان: باب فضل من استبرالدینہ' ح٥٦۔‏ مسلمٴ کتاب المساقاۃ: باب اخذ

الحلال وترأۂ الشبھات“ ح۹۹٥۱‏ ترمذی' کتاب البیوع: باب ماجاء فی ترك الشبھاء؛ح ٥٢١١‏ واللفظ له ٠‏

و دہج و حا رکب کے

رع ال تھایٰ تام انسانو کا رب ہے ای رع ا کی شیع بھی س بک رہتماے۔ لپزا لئے افش رلعت میں جس چو علال ترار دیا ے وہ تام انہائوں کے لیے حول ے اور جس سکوقرامقراردیا ہے دہ قیاص ت تک سب کے لیےحرام ہے۔

مثالی کے طور پر چوریکرنا عرام ہے خواوملمان چور یکر ے یا خی رسلم اورخواہ جرائی ہوئی چےزملما نکی ہو پا خی رسل مکی۔اىی طرع چور کے لیے سمزالا زی کے خواہ ا یکا نسب وصصب چچھ ہو اودال ںکی واینگ یی ےگھی ہو_ ےوہ اصول سے یس پرخود سی ظز ٠‏ نگل در رف مایا اور ال کا اعلالن ان الفاظا می شکیا:

((وَأیْمْ اللہ لَوْسَرَفَتْ فَاطِمَة بِنْتُ مُحَمّد لَقَطِمْتيَتَمَا.)) ٠‏

”ایح !1گ فا بت ش بھی چودی یکرنٹ فو جس ا ن کا اتندگھ ی اٹ دیتا۔'“

ای رع عہد رسمالت جس چودی کا ایک واقعہ ین لآیا تھا ٹس بل ایک یہودیی اور ایک ےلان رڈ ہولکلان کے رشن :افص تقر ان یکی بنا پر برودگی بر الزام رک 2 عالککہ درتقیقت مسلمان نے چود یک یھیا۔ اس موت بے وگی الا نے بے لاگ انصاف سے کام یی بہوے بیہدد یکو برک راد دیا۔ چنا نی شرآن میں ارشادہوا:

لا انتا يك اليلبَ بِالعَق لِکحْلھَ بيْنَ الگایں بنا رك اللہ لا

گن لِلْخَاييْنَ حَمًا ٰ وَامَتخغر اللہ إِنَاله کات خَفُوَاتََِتًاڈ پ4

)٦١١ ۱۰١ /٤٤:ءاسنلا(‎

”نم کاب ہم نے جی کے ساط تمہاری طرف أتاری ہے تاکرتم لوگوں کے

درسان اس کے مطابی فی ہکرو جو الہ نے ہیں دکھایا ہے تم شیا تکرنے

والو ںکی طرف سے بھکڑنے وانے ن بنو اور اڈ ے استغفارکر وق الفقور و

رم ہے۔ اوران لوگو ںکی وکالت شدکروجھاپنشں سے خیامت بر تے ٹیں۔

بخاری کتاب الحدود: کراھیة الشفاعة فی الحدح ۷۸۸١۔‏ مسلمٴ کتاب الحدود : باب ة ٣‏ بخاری' کتاب و فی الحداح مسلم' کتاب ود :باب

السارق الشریف وغیرہح۸۸۶٦۱۔‏

07ں ا جج کر ج00 ت

ارگوا یے لوک ین نیس جو خیامتکاراو رمحصی تک ہوں_' ٭

وی جنہوں نے اپتیکاوں می تی کی ال خیات میں ملا ھےکسودایک پبہودی

برصرف ال صورت میس مام ہے چک دہ اپ پبودی بای ک یکوقرضم دے یئ گب مر ہودیا کوسود فرش دیے مم کوک ننس ےج اکہ ”سفر تنیھة الا شتراع یش ہے:

سی ائڑ یکوسودیرقرزش دتےۓ لیلن اپ با یکوسود برقرض تردے_' )٣٠٢٣(‏

قرآنع نے ھی الن کے بارے می کہا ہ ےکہ دہ دوسرکی مت واول کے ساتحد خیات کرنے می ںکوئی رج پامگنا یو ںی ںکرتے :

سح ڑھھو وو سر عو

ِلْیُمْ کن اِن تَأمَنَةُ پیبتار لا ايك ا ما مت مَلَیْدِ

ب ؛ذِت الو قَائا نس عَلتا ی الب میں" يَقولینَ عق

اولَبَ مز َ6 (آل 9ت2 ٗٔ۷("

نن اوران ٹیں ایی بھی ہی ںکہ گرم ایک د ینا رجھی ا نکواماعت میس دوق وہ ال کو

ادا فی ںکرمیں کےگر ج بک ککیتقم ان کس رپرسوارت ہو جا2۔ یراس وجہ سے

ہےکروہ کے ہی سک ہامیوں (یریودیوں )کے معاملہ یں چم پ کی الثراعمیں

ہے۔ اور یہ بات دہ جا ٹئ بوچھت الیڈکی طر فبچھوٹ مو بکر تے۔“

بے ئک انہوں نے اللہ پہ ہیجعوٹ بی باندھا تھا کیو حتیتا 020-7 کے درمیا نکوئی تفر یکو سکرکی۔ ال نے خیان کون تام انمیاءکی زبای مرا قراردیا ے۔- ض ورت ںمفظورار نکومما حکرد تچ ٹییں:

الام نے مرام کے معاملہ میس سخت احقام دیے ہیں ینس نے انمانی زع کی ضرورتو ںکی طرف سے بے اخقنا ینڑیں برلی سے اود انسال یمکنرددی کا بھی پودا حا طکیا ے۔ بی وجہ ہ ےک اسلام نے اس با کو چائ کر دیا ہ ےک ایک مسلمائن شد بد ردرت تہ آجانے پان جان بچانے کے لیے قد رضرورت حرام جت کھائے۔ بی ےکہ الہ تی نے صردار خون اورشو ر کےگوش تک نحرم تکاعحم دی کے بحعدف مایا ہے:

ترمذی' کتاب تفسیر القرآن: باب و من سورة النساءح ٣۴۰۳ء‏

ج 0گ4۷0:: - چ ےھامرت تا ت

بزغمن اطم حر باج ول عَاي فلا الم حَلَيْه'نَالہَخَفور نہپ

(البقرة : ۲/ ۱۷۳)

2 جس مجبور ہو جاۓ اور ال سکیا خواجش ند اورصد سے تاو زکر نے والا ےر ہو

نو اس پر بج وکنایی۔ بے شیک الا کنٹے والا اود رگ فر مان والا کے

بیگم دنر امو رق مل بھی آیا ہے جن کاملبوم ایک ہی ہے۔ رادرس طر کی دوسربی آیچوں کے پیش نظ رفتماۓ اسلام نے ىہ ابھم اصول اخ ذکیا ‏ ےک ضرورتں ممظورا تکو جات زکر رق ےت

گنعال رت ووئات نے مخطرکے لیے ”یر باغ ولا ما کی قی اگالی ژ922) ہب ےکر حالت میوارئی می عرام سے فائتدہ اٹھانے والاحرام ےکی لز تک طااب نہ ہو اور ش بی فانمدہ اٹھانے کے معاملہ مل عرضرورت سے جیاوزکمر نے والا ہ9 ا حرط سے فقہاء نے ایک اور اصول اغ دہکیا سے اود دہ ىہ ےک ضرورت اپتا دائزہ یتین کرتی ے۔“

انا نکواگر چجیودی کےآ کے جھکنا ڑا کے لیکن اس کا مطلب کی کہ وہ اپ ےکو برکی رع مججوری کے ہوالکردے اور انف سکی زمام ال 2 بات مل دے ٹیشھے۔ بللمہ اسے لا زا ئل علال سے وابستۃ دہنا چا یے اور ا یکی طلاشل بس گے رہنا ہے ۔کہیں ایا نہ ہوکہجھ یز دح ضرورت کے لے وی ور یہ علال ہوک تھی اس کرل خیا لکیا جانے گے اوراں سےلفزت عاص لک جانے گے۔اسلام نے ضرورت کے موقتوں پکنقورا کومباح کے انی عام ا یرٹ (رو) اورتو اع دکلمی. کے مطا بن ہڑکی آسانی پیداکر دی ہے او رای سے ال تھالی کے اس ارشادکی تقحمد بل ہو حائی ہے:

ولیں الله یکم الیسر ول يُویْن يك الْعْسر (البقرۃ:۱۸۵/۲)

گن الڈتہارےسات ھآسان یکر چاہتا ےت کر نا نی چابتا۔“

قمہقمت